Zaalim afsaran ko Dismiss karne ka Gulbarga ki Milli wa siyassi tanzeemo ka mutalba, Monday Ko kul jamaati rally muslim chowk se.

پاپولر فرنٹ کے لیڈران کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو بخشا نہیں جائیگا۔ ہم کورٹ میں اور عوام میں اور ضرورت پڑی تو وزیراعلیٰ تک اس معاملے کو لے جائینگے۔پاپولر فرنٹ ریاستی صدرمحمد ثاقب کی گلبرگہ میں پریس کانفرنس

گلبرگہ 18؍فروری:
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے لیڈران کوئی مجرم یا چھٹ بھئے نہیں کو انکے ساتھ ظلم کرکے پولیس ڈپارٹمنٹ بچ سکتا ہے، ہم عوام کی خدمت کرتے ہیں اسی لئے ہمیں قانون اور حقوق کی بہتر جانکاری ہے۔ پولیس ڈپارٹمنٹ کے جن افسران نے یہ ظلم کیا ہے انکو بخشا نہیں جائیگا اور وہ اپنی ڈیوٹی کے دن گننا شروع کردیں کیونکہ ہم اسس ظلم کے خلا ف عوام میں ، کورٹ میں اور ہر اس جگہ جائینگے جہان سے انصاف مل سکتا ہے۔ ضرورت پڑی تو وزیر اعلیٰ سدرامیا کے گھر کاگھراؤبھی کریں گے۔ پولیس اقلیتوں کے تعلق سے کتنی ہمدر دہے اور کتنی غیر جانبدار اس کی ایک اور بے رحمانہ مثال ہمارے سامنے سامنے آئی ہے۔ پولیس نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے ضلعی صدر محمد محسن کو شدید زدو کوب کیا۔جس کے نشان انکے بدن پر واضح نظر آرہے ہیں۔کیا کرناٹکل میں مسلمان سماجی کارکن ہونا جرم ہوگیا ہے؟ یا پاپولر فرنٹ پرپولیس کی اس نظر کرم میں کوئی سازش ہے، اسکا پتہ بھی بہت جلد چل جائیگا۔گلبرگہ کی تمام مسلم اور دوسری سماجی تنظیمیں اور مسلم سیاسی قائدین جو الگ الگ پارٹیوں میں ہیں انہوں نے پاپولر فرنٹ کی تائید کا اعلان کیا ہے، اگر ڈپارٹمنٹ جلد ہی ایکشن نہیں لیتا ہے تو ریایکشن کے لئے تیار ہوجائے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے شیخ اعجاز علی پاپولر فرنٹ ضلعی سیکریٹری نے کہا کہ پولیس نے پی ایف آئی کے ارکان کو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ٹیپو سلطان چوک سے پارٹی کے یوم تاسیس منانے سے باز رکھنے کیلئے حراست میں لیا تھا۔ پی ایف آئی کے لیڈٖران کے مطابق حراست میں لئے جانے کے بعدانھیں یونیورسٹی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ جہاں پی ایس آئی راگھویندر نے انھیں بُری طرح پیٹا۔ ضلعی صدر محمد محسن کے چہرے پر گھونسے مارے گئے۔ چہرے پر پنچ مارے گئے۔ انکے چہرے کو جوتوں سے پیٹاگیااور سر پر جوتے رکھے گئے۔ اسی طرح سے ایک اور لیڈر شاہد نصیر کے ساتھ بھی پولیس نے بے رحمانہ سلوک کیا۔خود شیخ اعجاز کو بھی مارا پیٹا گیا۔
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ضلعی سیکریٹری شاہد نصیر کے مطابق پولیس نے انھیں القاعدہ، آئی ایس آئی، نکسلائیٹ، دہشت گرد بتاکر انھیں ہراساں کیا ۔ پی ایف آئی لیڈران کے مطابق پی ایس آئی راگھویندر نے انھیں بری بری گالیاں دیں۔ گندے گندے الفاظ سے انھیں کوسا۔ پی ایف آئی لیڈٖران کے مطابق پی ایس آئی نے اُن پر یہ طعنہ کسا کہ یہ پاکستان نہیں بلکہ ہندوستان ہے۔ رہائی کے ساتھ ہی محمد محسن کو گلبرگہ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں انکا علاج کیا گیا۔ یہ لات گھونسوں کی مار کا درد تو ختم ہوجایگا ہماری عزت نفس اور عوام میں ہماری امیج کا کیا ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ پی ایف آئی کے ارکان نے کیا ایسا غیر قانونی کام کیا تھا کہ پولیس نے انھیں بے رحمی سے پیٹا۔
عبدالرحیم پٹیل (SDPI)ریاستی سیکریٹری نے الوک کمار آ ئی جی پی ، این ششی کمار سپر انٹنڈنت گلبرگہ پولیس پر خوف و ہراس کا ماحول پیدا لکرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ضلع کی ایک انتہائی اہم مسلم تنظیم کے لیڈران کے ساتھ یہ کیا جاتا ہے تو عام عوام جن کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہوتا انکے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ بڑا سوال ہے۔ شہر میں جرم بڑھنے کی ایک وجہ لوگوں خاص کر نوجوانوں میں پولیس کے تئیں بدگمانی اور خوف کے جذبات ہیں۔ آج عوام پولیس کے پاس آنے کے بجائے غنڈوں کے پاس جا رہی ہے۔پولیس اپنا رویہ ٹھیک کرے ورنا حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔

گلبرگہ یونیورسٹی پولیس انسپکٹر اور دیگر کو ڈسمس کرنے کا مطالبہ کے ساتھ پیر کو عظیم ریالی مسلم چوک سے نکالی جائیگی۔ شہر کی تمام مسلم تنظیموں اور سیاسی قائدین کی پاپولر فرنٹ کو تائید
گلبرگہ کی تمام ملی تنظیموں اور مسلم سماجی قائدیں نے پاپولر فرنٹ کو اپنی تائید کا اعلان کیا ، کانگریس جنتا دل ، ایس ڈی پی آئی، مجلس اتحاد المسلمین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مسلم قائدین نے محمد محسن سے ملاقات کرکے انکو ہمت دلائی اور پولیس کے اس ظلم کے خلاف ساتھ لڑنے کا عزم جتایا۔اسکے علاوہ گلبرگہ مسلم ویلفیر اسوسیشن ، مجلس تعمیر ملت ، مجلس ٹیپو سلطان اور دیگر تنظیموں کے رہنما بھی پاپولر فرنٹ کے ساتھ نظر آئے اور ایک زبان ہوکر پولیس کی اس دھاندلی کی تنقید کی۔اس ضمن میں شاداب فنکشن ہال میں میٹنگ میں مئیر سید احمد، ڈاکٹر اصغر چلبل(سابق چیرمین کوڈا) ،سید مظہرایدوکیٹ، مولانا عتیق الرحمان اشرفی امامس کونسل،مولا نا جاوید عالم مصباحی (امام و خطیب جامع مسجد) ،شیخ سراج پاشاہ ، محمد یوسف سماجی کارکن،طاہر علی سماجی کارکن، ایڈوکیٹ کلیم احمد، سید حبیب سرمست، فیروز احمد اور گلبرگہ کی تمامتر ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے اور جو نہیں آسکے انہوں نے بھی تائید کا اعلان کیا۔گلبرگہ کے تاریخ میں خال خال ہی ایسا اتحاد مسلم جماعتوں میں نظر آیا ہے۔
پاپولر فرنٹ کے زیر اہتمام اس مہم کا آگے کے لائیحہ عمل کو جلد ہی طئے کرکے اسکے اوپر کام کیا جائیگا اورخاطی پولیس انسپکٹر اودیگر کو اسکے جرم کی سزا دلائی جائیگی۔ اسکے ساتھ ہی کئی غیر مسلم دلت و دیگر تنظیموں اور لیڈران نے پاپولر فرنٹ کی تائید جتاتے ہوئے پولیس پر تنقید کی اور اس مہم کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے ۔
اس ضمن میں ایک عظیم الشان ریالی مسلم چوک گلبرگہ سے ڈی سی آفیس گلبرگہ صبح ساڑٖھے دس بجے تک نکالی جائیگی ، جس میں شہر کے تمام ملی تنظیموں اور سیایے کارکن شامل ہونگے۔

Comments
Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

Leave a Reply

Facebook