Mulk me economic emergency ka mahol hai :SDPI, Demonetization k Khilaf mulk bhar me ehtejajat

شہر کے تماپوری سرکل پر انسانی زنجیربناکرسخت احتجاج کیا گیا بعد میں منی ودھان سودھا پہنچ کر ڈپٹی کمشنر ذریعہ صدر ہند کو یاداشت بھیجی گئی، احتجاجیوں  سے خطاب کرتے ہوے ریاستی سیکرٹری عبدالرحیم پٹیل نے کہا نوٹ بندی کے اعلان کے دومہینہ بعد بھی ملک کی عوام خود اپنے ہی پیسوں کے لئے ماری ماری پھر رہی ہے اور ایک حقیر سی رقم نکالنے کے لئے بھی اپنا وقت ضائع کررہی ہے اوراپنی عزت وقار کھو رہی ہے۔ ہندستان کے علاوہ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں عوام کے ذریعہ اپنی ضروریات کے لئے بچا بچا کر بینکوں میں جمع کی جانے والی اپنی خون پسینے کی رقم نکالنے پر کبھی کوئی پابندی لگائی گئی ہوَ۔بی جے پی حکومت کے اس قدم سے ملک اقتصادی لحاظ سے دہائیوں پیچھے جا پڑا ہے، کیوں کہ ملک کے معاشی نظام کو اس قدم سے شدیددھچکالگا ہے اور نقدی کے بحران کی وجہ سے اقتصادی صورت حال تیزی سے زوال کی طرف جارہی ہے۔ہر شعبہ زندگی سے وابستہ لوگ اپنے روزگار و کاروبار کوبچانے کی سخت کشمکش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔بہت سے لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں اور بہت سے لوگوں کی ملازمتیں چلی گئی ہیں۔ ہزاروں گھرانوں میں شادیوں کی تیاریاں چوپٹ ہوگئیں، لوگوں کی ایک خاصی تعداد اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اور بہت سے لوگوں کی ترقی و پیش رفت کا عمل رک گیا۔ وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے جواز میں جو اسباب بیان کئے، وہ تھے کالے دھن پر قدغن لگانا، دہشت گردانہ سرگرمیوں میں کالے دھن کے استعمال کو روکنا، نقلی نوٹوں کے دھندے کو ختم کرنا اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنا۔ لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوااور یہ سارے دعوے غلط ثابت ہوئے۔اس کے بعد وزیر اعظم اور ان کے وزیروں نے کیش لیس ایکنامی اور کیش لیس بینکنگ کا راگ چھیڑ دیاہے اور لوگوں کو بغیر رقم لین دین کے لئے اکسایا جارہا ہے۔ لیکن یہ پروپیگنڈہ بھی پھسپھسا ثابت ہورہا ہے۔

شا ہد نصیرضلع جنرل سکیر ٹری نے کہا کے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد ملک اقتصادی ایمرجنسی جیسی صورت حال سے دوچار ہے۔ کسان، مزدور، ٹھیکہ دار، تاجر اور صنعت کار سب کے سب حکومت کے اس غلط فیصلہ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ تقریباً پانچ کروڑ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں، کاروبار اور تجارت کی جملہ سرگرمیاں ماند پڑگئی ہیں اور اس وجہ سے ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار “جی ڈی پی(GDP)”کی شرح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے شہریوں کے بنیاد ی حقوق پر ضرب لگاتے ہوئے انہیں اپناپیسہ بینکوں میں جمع کرنے پر مجبور کردیا اور نکالنے پر پابندی لگادی۔ وزیرا عظم مودی نے یہ کہہ کرناقدین کامنھ بند کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو لوگ حکومت کی منشاء پر سوال اٹھارہے ہیں وہ کالے دھن کے حمایتی ہیں۔ مرکز میں بر سر اقتدار آنے کے بعد سے ہی بی جے پی عوام مخالف پالیسیاں عائد کررہی ہے، فرقہ پرستی پھیلانے والے عناصر کو سرکار نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ملک پرہندوتوادی ایجنڈہ تھوپنے میں لگی ہوئی ہے۔ سیاسی ناقدین اور حزب اختلاف کی آواز کویہ حکومت بڑی بے شرمی کے ساتھ دبانے کی کوشش کررہی اور عوام کے جمھوری احتجاج کو دبانے میں لگی ہوئی ہے۔
اس احتجاج میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ضلع صدر سید ذاکر ،نضیر شیخ روزہ ،محمد سلطان کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Comments
Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

Leave a Reply

Facebook